3 جون 2026 - 09:06
حصۂ اول عراق کے گڑھے سے نکل کر ایران کے کنویں میں گرنا؛ ٹرمپ کا ایک غلطی کا اعتراف

امریکہ میں ایران کے ساتھ جنگ کے بارے میں بحث بہت پیچیدہ ہو گئی ہے۔ اس دوران ایران پر فوجی حملے کا ویت نام اور عراق جیسی جنگوں سے موازنہ، وائٹ ہاؤس کی دکھتی رگ (Achilles' heel) بن گیا ہے۔ لیکن اب خود ٹرمپ نے اپنی ٹرمپیات (عجیب بیانات) میں، ایران کے ساتھ جنگ کو عراق کی طویل اور انتہائی مہنگی جنگ کی صف میں رکھ دیا ہے۔

بین الاقوامی اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا؛ امریکی صدر نے حال ہی میں ایک "دیر سے اعتراف" کرتے ہوئے کہا ہے: "دیکھو عراق کے ساتھ کیا ہؤا۔ ہم نے بہت برا عمل کیا۔ ہم نے جو کیا وہ ایک بڑی غلطی تھی۔ سب سے پہلے، ہمیں کبھی وہاں نہیں جانا چاہئے تھا۔ ہمیں ایران سے بھی نہیں لڑنا چاہئے تھا۔"

ریاستہائے متحدہ میں، عراق کی جنگ کا ایران کی جنگ سے موازنہ، ـ جو مدت کے لحاظ سے کسی بھی طرح قابلِ قیاس نہیں ہیں، ـ ان مباحث میں سے ہے جن سے اس جنگ کے حامی گریزاں ہیں۔

ٹرمپ کا وزیر جنگ پیٹ ہیگستھ، جنگ بندی کے بعد کانگریس کی بریفنگ میں شریک ہؤا اور جب ایک رکن کانگریس نے ان دونوں جنگوں (عراق اور ایران پر فوجی حملے) کے موازنے پر بات کی تور اس نے غصے کی حالت میں کہا: "شرم کرو! عراق کی جنگ میں میری نسل کے لوگ شریک تھے، اور یہ جنگ برسوں تک جاری رہی، تو تم ایران کے ساتھ دو ماہ کی جنگ کا اس سے موازنہ کیسے کر رہے ہو!"

ایک مختصر مگر مؤثر جنگ!

ٹرمپ کا ایران پر فوجی حملے کا عراق پر (2003 سے 2011 تک) آٹھ سالہ قبضے سے ـ چاہتے ہوئے، یا نہ چاہتے ہوئے، ـ موازنہ اس جنگ کے بارے میں اس کے نقطہ نظر کی بتدریج تبدیلی کو نمایاں کر رہا ہے جو اگرچہ وقت کے لحاظ سے عراق کی جنگ سے مختصر ہے، مگر تاثیر کے لحاظ سے امریکی معاشرے کو مختلف پہلوؤں سے بہت شدت سے متاثر کر رہی ہے۔

ریاستہائے متحدہ نے دوسری عالمی جنگ کے بعد مختلف ممالک پر 200 سے زائد فوجی جارحیتیں یا مداخلتیں کی ہیں۔ ان میں ویت نام، عراق اور افغانستان کی تین جنگیں طویل، مہنگی اور یقیناً لاحاصل ہونے کی وجہ سے امریکی تاریخ اور حتیٰ کہ تہذیب میں بہت نمایاں نظر آتی ہیں۔

علاوہ ازیں، یہ تینوں جنگیں وقت گذرنے کے ساتھ ساتھ کم سے کم عوامی حمایت حاصل کر پائیں اور انہوں نے اپنے وقت کے امریکی صدور کے سیاسی مستقبل کو تباہ کر دیا؛ سابق امریکی صدر لینڈن جانسن (Lyndon Johnson)، ـ جس نے ویت نام میں امریکی فوجی موجودگی میں اضافہ کیا، اور سابق جارج ڈبلیو بش، جس نے افغانستان اور عراق دونوں جنگیں شروع کیں، امریکی سیاسی افق سے باہر کر دیئے گئے۔

روئٹرز کے سروے سے پتہ چلتا ہے کہ ایران کی جنگ قلیل مدتی ہونے کے باوجود، امریکہ کی دیگر جنگوں کے مقابلے میں بہت جلد عوامی حمایت کھو چکی ہے۔ جبکہ جنگ سے پہلے ہی یہ طے ہو چکا تھا کہ نصف سے زیادہ امریکی اس جنگ کی حمایت نہیں کرتے۔ جنگ شروع ہونے اور اس کے اثرات ظاہر ہونے کے تھوڑی دیر بعد، حمایت کی شرح 27 فیصد تک پہنچ گئی جو ویت نام یا عراق کی جنگوں کے آخری برسوں کے مقابلے میں بھی کم ہے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

تحریر: علی رضا محمدی

ترجمہ: ابو فروہ

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

110

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha